Pages

Monday, March 16, 2015

تین نکاتِ آغاز

تحریر: جوشوا ہیشل
ترجمہ: قیصر شہزاد / عاصم بخشی

جدید معاشرے میں مذہب کے انحطاط کا ذمہ دار دنیاوی سائنس اور لادین فلسفے کو ٹھہرا نے کا رواج پڑ گیا ہے۔ مگر دیانتداری کا تقاضا یہ ہو گا کہ خود مذہب ہی کو اپنی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ مذہب انحطاط کا شکارغلط ثابت کردیئے جانے کے باعث نہیں ہوا بلکہ ایسا اس کے غیر متعلق، بیزارکن، جابرانہ اور بوجھل ہونے کی وجہ سے ہوا۔ جب ایمان اعتقادمیں ، عبادت ضابطہ بندیوں میں اور عشق میلان میں بدل جائے، جب حال کا بحران ماضی کی شان و شوکت کے پیچھے دھکیل دیا جائے، جب ایمان ایک جاری و ساری چشمۂ فیض کی بجائے موروثی ترکہ بن جائے؛ جب مذہب صدائے رحمت کی بجائے محض آوازِ اقتدار بن جائے ، تو اس کا پیغام بے معنی ٹھہرتا ہے۔

مذہب حتمی سوالات کا ایک جواب ہے۔ جیسے ہی ہم حتمی سوالات کو فراموش کرتے ہیں ، مذہب غیر متعلق ہو جاتا ہے، اوراس کی انحطاط پذیری کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ مذہبی فکر کا بنیادی کام ان سوالوں کی ازسرِنو دریافت ہے جن کا جواب مذہب ہے، یعنی ان مطلق سوالات کے متعلق ایک درجے کی حساسیت پیدا کرنا جن کے جوابات مذہب اپنےتصورات اور افعال کے ذریعے دینا چاہتا ہے۔

مذہبی سوچ استدلال کی گہرائیوں سے جنم لینے والی ایک فکری جدوجہد ہے۔ یہ انسانی ہستی سے جڑے حتمی مسائل کے بارے ایک عرفانی بصیرت کا سرچشمہ ہے ۔ مذہب محض ایک کیفیت یا احساس سے کہیں بڑھ کر ہے۔مثال کے طور پر یہودیت صرف ایک طریقۂ زندگی نہیں بلکہ طریقۂ فکر ہے۔تاوقتیکہ ہم اس کے مقولات،ادراک اور جانچ کے اطوار کا فہم حاصل نہ کر لیں اس کی تعلیمات ناقابل فہم رہیں گی۔

محض حسنِ نیت کا نعرہ کافی نہیں، ہمیں حسنِ فکر کی ضرورت ہے۔

خدا کے بارے میں غور و فکر کے تین نکاتِ آغاز یعنی اس تک جانے والی تین پگڈنڈیاں موجود ہیں۔ اول :کائنات اور اشیاء کے ذریعے، دوم کتابِ مقدس کے ذریعے اور سوم اعمالِ مقدسہ کے ذریعے اس کی ہستی کا احساس ہے۔ کتابِ مقدس کی تین مختلف عبارات ان تینوں راستوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں:

اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو کہ ان سب کا خالق کون ہے؟ (کتاب یسعیاہ ۴۰:۲۶)
میں خداوند، تیرا خدا۔ (کتاب خروج ۲۰:۲)
ہم سنیں گے اور اتباع کریں گے۔ (کتاب خروج ۲۴:۷)

ہماری روایت میں یہ تینوں راہیں مذہبی ہستی کے تین بنیادی دھاروں یعنی عبادت، علم اور عمل سے مطابقت رکھتی ہیں ۔ تینوں ایک اکائی ہیں اور منزل تک پہنچنے کے لئے تینوں راستوں پر ایک ساتھ سفر کرنا ضروری ہے۔کیوں کہ بنی اسرائیل نے یہی دریافت کیا تھا: فطرت کا خدا ہی تاریخ کا خدا ہے، اور اسے جاننے کے لئے اس کی مشئیت پر عمل ناگزیر ہے۔

ان تینوں راہوں میں موجود بصائر کو دوبارہ گرفت میں لینے کا مطلب ہے کتاب ِمقدس میں بیان کردہ تجربہ ٔ زندگی اور تجربۂ حقیقت کی جڑوں تک رسائی، اس کے معنی ہیں بنی اسرائیل کی مذہبی تماثیل میں غوطہ زنی، یہ فہم کہ وہ کیا تھا جس نے ایوؑب کو یہ کہنے کہ قابل کیا:

جہاں تک میرا تعلق ہے ، مجھے علم ہے کہ میرا نجات دہندہ زندہ ہے،
کہ وہ خاک پر موجود آخری ذی روح تک کا شاہد ہو گا۔
اپنی کھال کے برباد ہو جانے کے بعد بھی،
میں اپنے اسی گوشت پوست میں رہتے ہوئے خدا کو دیکھوں گا۔
کسی اور کی نہیں بلکہ میری اپنی ہی بارِنگاہ ۔
میرا دل میرے اندر فنا ہوا جاتا ہے۔

انسان فکر کے اس درجے پر کس طرح پہنچ سکتا ہے جب وہ یہ کہنے کے قابل ہو کہ ’’میں اسی گوشت پوست میں رہتے ہوئےخدا کو دیکھوں گا‘‘؟

1 comments:

Unknown نے لکھا ہے کہ

ماشاء اللہ بہت ہی زبردست تحریر کا بہت ہی شاندار ترجمعہ۔۔۔ اللہ کرے ذور قلم اور زیادہ۔۔۔
جزاک اللہ خیر

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔